احمد آباد ، 27؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)گجرات کے شہر احمد آباد میں سابرمتی فرنٹ پر بیٹھے دو نوجوانوں پر نام پوچھنے کے بعد مبینہ طور سے ہندوتوا وادی تنظیموں سے منسلک کارکنوں کے ذریعے چاقوؤں سے حملے کا معاملہ سامنے آیا ہے-اس حملے میں 26سالہ نوشاد اجمیری اور28سالہ روحان شیخ سنگین طور پر زخمی ہوگئے-دونوں کو گہرے زخم لگے ہیں -روحان کے ہاتھ اور کاندھے پر چاقو مارا گیا جبکہ نوشاد کی پیٹھ پر کئی وار کیے گئے -یہ واقعہ 18نومبر کا ہے جس کی رپورٹ تاخیر سے ہوئی- زخمی نوشاد نے انڈیا ٹومارو ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ہم چار لوگ تھے جو سابرمتی فرنٹ پر گھومنے کیلئے آئے تھے ان میں دو ہندو دوست بھی تھے بائیک پر سوار کچھ نوجوان وہاں آئے انہوں نے سب کا نام پوچھا -ہمارے ہندو دوست کو کچھ نہیں کہا البتہ مسلم نام سن کر ہم سے بدتمیزی کی جس پر کہا سنی ہوئی اس سے پہلے کہ کچھ سمجھتے انہوں نے حملہ کردیا -اہم بات یہ ہے وہی دونوں ہندو دوستوں نے پولیس کو فون کیا،ایمبولینس منگوائی اور اسپتال میں ایڈمٹ کیا- انہوں نے ہی پولیس میں ایف آئی آر درج کروائی-نوشاد کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں کی طرف سے ہندو دوستوں کو سبق سکھانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر لکھ لی گئی ہے ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے شناخت جاری ہے -نوشاد نے مزید بتایا کہ نام پتہ کرنے کے بعد ان نوجوانوں نے کہا تھا کہ یہاں مسلمان کا آنا و بیٹھنا منع ہے -واضح رہے کہ بعض طاقتوں کی طرف سے سماج کے درمیان مذہبی منافرت کی آگ بھڑکائی جارہی ہے جس سے شکوک و نفرت کا ماحول پیدا ہورہا ہے- ماب لنچنگ اس کا سب سے بدترین نمونہ ہے-